16 ستمبر 2011 - 19:30

کراچی سے جمعہ کے روز گرفتار کئے جانے والے آٹھ ٹارگٹ کلرز میں سے 2 نے دل دہلا دینے والے سنسی خیزانکشافات کئے ہیں۔ ملزم سہیل عرف کالا منا نے 137 افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

ابنا: این آر او کے تحت اس کے تمام کیس ختم کرادیئے گئے تھے جبکہ ملزم نعیم زادہ نے 25 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا یا ہے، دونوں کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔

کراچی میں سی آئی ڈی پولیس کی تحویل میں موجود ملزم سہیل عرف لیاقت آباد والا عرف کالا منا نے دوران تفتیش 137 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ تفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزم 1990 سے گھنانی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ملزم نے 1990 سے 1998 تک 42 افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا جبکہ 2008 میں 24، 2009 میں 12، 2010 میں 18 اور 2011 میں 12 افراد کو قتل کیا۔ سہیل دو فوجیوں رحیم اور ادریس کو بھی قتل کرچکا ہے۔ ملزم 2007 سے واٹر بورڈ میں بطور بلنگ اسسٹنٹ کام کر رہا تھا۔ اسے 1998 میں گرفتار کیا گیا لیکن وہ 2006 میں ضمانت پر رہا ہوگیا۔ این آر او کے تحت اس کے تمام کیسز ختم کر ا دیئے گئے۔رپورٹ کے مطابق دوسرے ملزم نعیم زادہ نے سائٹ اور اورنگی ٹاون کے مختلف علاقوں میں بسوں پر فائرنگ کرکے 20 مسافروں کو قتل کیا۔ قتل کی دیگر 5 وارداتیں اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کیں۔ ملزم نے ایک سرکاری اسپتال کے ایم ایس سے ماہانہ بنیادوں پر بھتہ لینے کا بھی انکشاف کیا ہے۔ ملزم سہیل اور نعیم زادہ کو کاشف برگر کے ساتھ پیرآباد اور لیاقت آباد سے گرفتار کیا گیا۔ ملزموں سے چار دستی بم، تین ٹی ٹی پستول اور تین نائن ایم ایم رائفلیں بھی برآمد ہوئیں۔ثنا اللہ، عابد مستوئی، انصار، اعجاز اور گلارب شاہ کو حسین ہزارہ گوٹھ سے پکڑا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزموں کا تعلق سیاسی جماعت ہے اور انہوں نے 6 قتل کا اعتراف کیا ہے افراد کے۔